مذہب

ایان علی: اسلام سے ملحد، پھر عیسائیت قبول کر لی!

ایان علی نے 2004 میں ڈچ فلم ساز تھیو فان گوخ کے ساتھ مل کر ایک فلم بنائی تھی- اس فلم میں مسلمان خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم اور مذہبی متون کی بعض ایسی تشریحات پر تنقید کی گئی جنہیں عورتوں کی محکومی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔فلم Submission کی پیشکش اشتعال انگیز تھی۔ اس میں خواتین کے جسموں پر مذہبی نوعیت کے متن کو نمایاں کیا گیا تاکہ یہ سوال اٹھایا جا سکے کہ مذہبی اتھارٹی عورت کے جسم اور زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔فلم کے بعد ایان اور فان گوخ کو دھمکیاں ملیں۔ 2 نومبر 2004ء کو فان گوخ کو ایمسٹرڈیم میں قتل کر دیا گیا۔ قاتل نے ان کے جسم پر ایک خط چھوڑا جس میں ایان کو بھی دھمکی دی گئی تھی۔ یہ وہی ایان علی ہیں جو مسلمان پیدا ہوئی، اسلام سے بغاوت کی، الحاد اختیار کیا، مذہب پر شدید تنقید کی، خواتین کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی، اور پھر عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ آخر ایان علی کی زندگی ہمیں مذہب، آزادی، شناخت اور انسانی عقل کے بارے میں کیا بتاتی ہے-

وہ مسلمان پیدا ہوئی، مگر اسلام سے بغاوت کی اور الحاد اختیار کیا، مذہب پر شدید تنقید کی، خواتین کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی، اور پھر عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ تو سوال یہ ہے کہ آخر ایان علی کی زندگی ہمیں مذہب، آزادی، شناخت اور انسانی عقل کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟ کیا مذہب سے بغاوت لازماً انسان کو الحاد تک لے جاتی ہے؟ کیا اسلام پر تنقید کرنے والا شخص ہمیشہ ملحد رہتا ہے؟ کیا ایک عورت کا اپنے مذہب سے اختلاف صرف ذاتی تجربات کا نتیجہ ہوتا ہے، یا اس کے پیچھے ایسے سماجی اور فکری سوالات بھی ہوتے ہیں جن کا سامنا لاکھوں دوسرے انسانوں کو ہے؟ ایان علی کی زندگی ان سوالات کے لیے ایک غیر معمولی مطالعہ فراہم کرتی ہے۔ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اسلام، خواتین کے حقوق، مذہبی اختیار، مغربی معاشرت اور انتہاپسندی کے بارے میں سخت اور متنازع مؤقف اختیار کیے۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسی عورت سمجھتے ہیں جس نے مذہبی جبر کے سامنے خاموش رہنے سے انکار کیا؛ لیکن ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان کی بعض تحریریں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں حد سے زیادہ سخت ہیں-نومبر 2023 میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ عیسائیت اختیار کر چکی ہیں۔ اس تبدیلی نے ان کی زندگی کو ایک نئے سوال کے سامنے کھڑا کر دیا: کیا مذہب سے نکلنے والا ذہن آخرکار مذہب ہی کی طرف واپس لوٹ سکتا ہے؟ اور کیا کسی انسان کا ذاتی روحانی سفر کسی مذہب کے حق یا مخالفت میں فیصلہ کن دلیل بن سکتا ہے؟

ایان حرسی علی 13 نومبر 1969ء کو صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں پیدا ہوئیں۔ ان کے بچپن کا ایک اہم اور تکلیف دہ پہلو Female Genital Mutilation ہے۔ ایان کے مطابق، بچپن میں انہیں اس عمل سے گزارا گیا۔ اس تجربے کو سمجھنا ان کی بعد کی فکر کے لیے اہم ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں خواتین کے جسم، جنسی آزادی، شادی، مذہبی احکامات اور خاندانی اختیار سے متعلق سوالات کو مرکزی حیثیت دی- ایان حرسی علی کی فکری تبدیلی کو صرف ایک واقعے سے سمجھنا مشکل ہے۔ ان کے اپنے بیانات کے مطابق، نوجوانی میں کینیا کے ماحول میں مسلم برادرہُڈ سے وابستہ تبلیغی سرگرمیوں نے ان کی مذہبی زندگی پر اثر ڈالا۔ اس تحریک کے علماء نے مذہب کو عبادات کے ایک مجموعے سے آگے بڑھا کر ایک مکمل طرزِ زندگی، سیاسی شناخت اور اخلاقی نظم کے طور پر پیش کیا۔ان کی تحریروں میں اس تجربے کا ذکر موجود ہے کہ مذہبی تعلیمات نے انہیں زندگی کے لیے ایک واضح راستہ، نیکی اور بدی کی بنی بنائی تعریف، اور آخرت میں کامیابی یا ناکامی کا تصور دیا۔ لیکن اسی تجربے کے ساتھ ان کے ذہن میں سوالات بھی پیدا ہوئے: کیا ہر مذہبی حکم اخلاقی طور پر درست ہے؟ کیا مذہبی اختیار کے نام پر فرد کی آزادی محدود کی جا سکتی ہے؟ کیا کسی عقیدے کو صرف اس لیے قبول کرنا چاہیے کہ وہ مقدس سمجھا جاتا ہے؟

2001ء کے بعد، خاص طور پر نائن الیون کے حملوں اور ان کے مذہبی جواز کے بارے میں بحث نے ان کے مذہبی تعلق کو مزید پیچیدہ کیا۔ نومبر 2023 میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں انہوں نے لکھا کہ 2002ء میں برٹرینڈ رسل کی تقریر Why I Am Not a Christian پڑھنے سے ان کے لیے مذہبی عقائد پر شک کرنا آسان ہوا اور وہ خدا پر ایمان سے دست بردار ہوئیں۔ ایان حرسی علی کی شناخت کا سب سے نمایاں حصہ خواتین کے حقوق کے لیے ان کی سرگرمی ہے- ان کا بنیادی مؤقف یہ رہا ہے کہ عورت کی آزادی کو محض خاندان کی عزت، مذہبی روایت یا معاشرتی نظم کے نام پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک بالغ عورت شادی نہیں کرنا چاہتی، کسی رشتے سے نکلنا چاہتی ہے، تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے یا اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرنا چاہتی ہے، تو اسے یہ حق حاصل ہونا چاہیے- ان کی کتاب The Caged Virgin میں خواتین کی آزادی اور مسلم معاشروں میں صنفی عدم مساوات کے موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں۔ بعد میں Infidel میں انہوں نے اپنی زندگی اور مذہبی تبدیلی کے تجربات بیان کیے، جبکہ Nomad میں شناخت، خاندان اور ثقافتی اختلافات پر مزید لکھا-

ایان حرسی علی کی معروف خودنوشت Infidel، جو 2007ء میں انگریزی میں شائع ہوئی، ان کی زندگی اور فکری تبدیلی کو سمجھنے کے لیے اہم کتاب ہے۔اس میں انہوں نے صومالیہ میں اپنے بچپن، خاندان، مذہبی ماحول، یورپ ہجرت، طے شدہ شادی سے فرار اور مذہبی عقائد سے دور ہونے کے سفر کو بیان کیا- 2015 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب Heretic: Why Islam Needs a Reformation Now میں ایان حرسی علی نے ایک اہم مؤقف اختیار کیا: ان کے نزدیک اسلام کے بعض روایتی عقائد اور مذہبی متون کی ایسی تشریحات انتہاپسندی، فرقہ وارانہ تشدد اور خواتین و اقلیتوں پر پابندیوں کو جواز فراہم کر سکتی ہیں؛ اس لیے مسلم معاشروں میں مذہبی اصلاح کی ضرورت ہے۔ان کا استدلال یہ ہے کہ دہشت گردی کو صرف سیاسی محرومی، غربت یا مغربی خارجہ پالیسی کے ردعمل کے طور پر سمجھنا کافی نہیں۔ اگر کوئی انتہاپسند گروہ اپنے تشدد کو مذہبی تعلیمات کے ذریعے جائز قرار دیتا ہے تو اس کے مذہبی دلائل کا بھی تجزیہ ہونا چاہیے- اس موضوع پر ان کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مسلم معاشرے مذہبی متون کی ایسی تشریحات اختیار کر سکتے ہیں جو خواتین، مذہبی اقلیتوں، سابق مسلمانوں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے حقوق سے مطابقت رکھیں؟

ایان حرسی علی کی کہانی کا سب سے غیر متوقع موڑ نومبر 2023ء میں سامنے آیا، جب انہوں نے UnHerd میں مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا: Why I Am Now a Christian۔اس مضمون میں انہوں نے اپنے سابقہ الحاد سے فاصلہ اختیار کرنے اور عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق، الحاد نے زندگی کے مقصد اور معنی کے بارے میں ان کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ انہوں نے یہ بھی استدلال کیا کہ مغربی معاشروں کو سیاسی اور ثقافتی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے محض سیکولر اداروں اور پالیسیوں سے بڑھ کر کسی مشترک اخلاقی اور تہذیبی بنیاد کی ضرورت ہے۔ یہاں ان کی فکری زندگی ایک دلچسپ موڑ لیتی ہے- ایک زمانے میں وہ اسلام سے دور ہوئیں کیونکہ انہیں اس مذہبی نظام میں ایسے مسائل دکھائی دیتے تھے جنہیں وہ قبول نہیں کر سکتی تھیں۔ بعد میں انہوں نے الحاد اختیار کیا، لیکن پھر اپنے بیان کے مطابق زندگی کے معنی، روحانی آسودگی اور مغربی تہذیب کی بقا سے متعلق سوالات کے باعث عیسائیت کی طرف رجوع کیا-ایان حرسی علی کی زندگی کا سب سے اہم سبق شاید یہی ہے کہ کسی انسان کے مذہبی سفر کو اس کے آخری عقیدے سے نہیں، بلکہ اس کے سوالات، دلائل، تجربات اور ان دعوؤں سے سمجھنا چاہیے جنہیں وہ درست قرار دیتا ہے۔اور آخر میں سوال یہ ہے:اگر ایک عورت اپنے مذہب کو چھوڑ کر آزاد زندگی اختیار کرتی ہے، پھر الحاد سے بھی مطمئن نہیں ہوتی اور عیسائیت کی طرف واپس چلی جاتی ہے، تو کیا اس کا سفر مذہب کی فتح ہے، الحاد کی ناکامی ہے، یا اس بات کی مثال ہے کہ انسانی ذہن شناخت، معنی اور سچائی کی تلاش میں مسلسل تبدیلی سے گزرتا رہتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے