کیا صرف اسلام؟ دنیا کے کون کون سے مذاہب میں جنت کی شراب کا ذکر موجود ہے؟
مختلف ادیان، فلسفوں اور قدیم مائیتھالوجییز (Mythologies) کا تقابلی جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی موت کے بعد کی زندگی اور جنت کے تصور میں ایک "الہامی، پاکیزہ اور نہ ختم ہونے والے مشروب” کا تذکرہ تقریباً تمام بڑی عالمی تہذیبوں میں بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔اگرچہ دنیاوی زندگی میں نشہ آور اشیاء کو اکثر اخلاقی یا مذہبی طور پر ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا، لیکن جنت/سورگ/ویلہالا میں ایک ایسے مشروب کو بطورانعام پیش کرنے کی پیشن گوئی کی گئی جو دنیاوی ناپاکی، نشے اور عقل کے فتور سے مکمل طور پر پاک ہو۔
اسلام: "شرابِ طہور” اور پاکیزہ نہریں
اسلامی تناظر میں جنت کی شراب کو "شرابِ طہور” (پاکیزہ مشروب) کہا گیا ہے۔ یہ دنیاوی شراب کی طرح انسان کو بے ہوش یا بیمار نہیں کرتی بلکہ روح کو خوشی اور لذت بخشتی ہے۔ قرآنی سورۃ محمد کی آیت 15 کے مطانق”…وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ…” اور (جنت میں) شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سرتاپا لذت ہیں…” – اسی طرح سورۃ الصافات (آیات 45-47) میں ارشاد ہوتا ہے کہ جنتی شراب سفید اور شفاف ہوگی، "نہ اس سے سردرد ہوگا اور نہ ہی اس سے عقل میں کوئی فتور آئے گا۔”
سنن الترمذی کی حدیث نمبر 2571 کے مطانق سیدنا معاویہ بن حیدہ رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بلاشبہ جنت میں پانی، شہد، دودھ اور شراب کا سمندر موجود ہے، پھر اس کے بعد (ان سے) نہریں جاری ہوتی ہیں۔”
زرتشت ڈوم (Zoroastrianism): مقدس مشروب "ہوما”
قدیم فارس (ایران) کے مذہب زرتشتیت میں موت کے بعد کی زندگی کے لیے "ہوما” (Haoma) کا ذکر ملتا ہے۔ زرتشتیت کی مقدس کتاب اوستا (Avesta – Yasna 9 & 10) میں ہوما کا تفصیلی ذکر ہے۔ زرتشتی عقیدے کے مطابق، جب نیک ارواح پلِ چنواد (Chinvat Bridge) پار کر کے "بہشت” (Garo Demana / House of Song) میں داخل ہوتی ہیں، تو انہیں "ہوما” پلایا جاتا ہے جو روح کو الہامی سرور اور لامتناہی خوشی فراہم کرتا ہے۔
ہندومت (Hinduism): "سوم رس” اور "امرت”
ویدک تہذیب اور ہندو متون میں ابدی دنیا اور دیوتاؤں کے مسکن (سورگ) میں پائے جانے والے مشروب کا ذکر سب سے نمایاں ہے۔ رگ ویڈ کا -9 Mandala مکمل طور پر "سوم” (Soma) کی تعریف میں لکھا گیا ہے۔ اس کے مطابق “اے سوم! مجھے اس ابدی اور لافانی دنیا (سورگ) میں لے جا جہاں نُور کی حکمرانی ہے… جہاں لامتناہی خوشیاں اور لذتیں ہیں۔”
پورانوں (مثلاً وشنو پوران) میں ذکر ملتا ہے کہ سمندر منتھن (سمندر کے رگڑنے) سے "امرت” (Amrita) حاصل ہوا، جو دیوتاؤں اور جنتی ارواح کو الہامی طاقت اور لافانیت عطا کرتا ہے۔
قديم نورس اساطیر (Norse Mythology): "میڈ” (Mead) کی نہریں
قدیم شمالی یورپی (وائکنگ) عقائد میں جنگجوؤں اور صالح ارواح کے لیے جنت کا تصور "ویلہالا” (Valhalla) کے روپ میں موجود تھا۔ نورس اساطیر کے مطابق، دیوتا اوڈن (Odin) کے شاہی ہال ویلہالا کی چھت پر "ہید رن” (Heiðrún) نامی ایک معجزاتی بکری چرتی ہے، جس کے تھنوں سے ایک دیوہیکل کڑاہ میں "میڈ” (Mead – شہد سے بنی قدیم شراب) کی نہریں مسلسل گرتی ہیں، اور تمام جنتی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
عیسائیت اور یہودیت

ابراہیمی روایات کے دیگر دو ادیان میں بھی اخرت کے ملکوتی جشن (Messianic Banquet) اور شراب کا ذکر موجود ہے-
تلمود میں ذکر ہے کہ آنے والے آخرت کے دور میں پرہیزگاروں کے لیے "وہ شراب پیش کی جائے گی جو تخلیقِ عالم کے ابتدائی چھ دنوں سے اپنے انگوروں میں محفوظ رکھی گئی ہے۔”
انجیلِ مقدس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے روایت ہے: "میں تم سے کہتا ہوں کہ انگور کا یہ پھل اب سے ہرگز نہ پیوں گا جب تک کہ اس دن اپنے باپ کی بادشاہی (جنت) میں تمہارے ساتھ نیا نہ پیوں۔”
قديم یونانی اور رومن مائیتھالوجی
اگرچہ یونانیوں کے ہاں ابراہیمی جنت جیسا تصور نہیں تھا، لیکن ان کی مقدس ترین جگہ Elysium (نیک ارواح کا مسکن) اور کوہِ اولمپس میں مشروبات کا ذکر ملتا ہے۔ ہومر کی الئیڈ (Iliad) اور اوڈیسی (Odyssey) میں اس کا ذکر موجود ہے- یونانی مائیتھالوجی کے مطابق "نیکٹر” دیوتاؤں اور الہامی مخلوق کا سرخ رنگ کا لذیذ ترین مشروب تھا، جسے پینے سے جسم کی فانی کیفیت ختم ہو جاتی تھی اور روح کو لافانی لذت حاصل ہوتی تھی۔
ان تمام تقابلی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ مختلف خطوں اور ادوار کے ادیان میں "شراب” یا اس سے مشابہ مشروب کا بطور انعام ذکر انسان کی اس بنیادی فطری خواہش کی عکاسی کرتا ہے جہاں وہ موت کے بعد ایک ایسی پاکیزہ، بوجھ سے پاک اور سرور انگیز زندگی کا خواش مند ہے جس کا دنیا کی مادی اشیاء سے کوئی موازنہ نہیں
