Uncategorizedمذہب

یک کتاب نے مسلم علماء کو پریشان کر دیا!

کیا کسی شخص کو صرف اس لیے سچ مان لیا جائے کہ وہ خود کو خدا کا پیغمبر قرار دیتا ہے؟کیا کوئی معجزہ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت بن سکتا ہے کہ اس کے پیچھے خدا کی طاقت کام کر رہی ہے؟اور اگر انسان کو عقل دی گئی ہے تو پھر اسے یہ فیصلہ کرنے کے لیے کسی نبی، وحی یا مقدس کتاب کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے کہ اسے کیا ماننا چاہیے اور کیا نہیں؟ کیا مقدس کتاب سوال سے بالاتر ہے؟ یہ سوالات آج کے دور کے نہیں جو میں دہرا رہا ہوں بلکہ یہ سوالات اور ان جیسے مزید سوال جو میں ابھی آپ کے سامنے رکھوں گا یہ مسلمانوں کے عباسی دور یعنی نویں صدی میں مسلمانوں میں بڑے زوردات طریقے سے زیر بحث تھے- اور یہ سوالات ایسی کتاب کے اندر ہیں جس کا مصنف بھی مسلمان تھا اور اس نے جو کتاب لکھی اس کا مکمل کانٹینٹ موجود نہیں مگر جو کانٹینٹ ملا اس نے مدتوں سے مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر رکھا ہے- اس متنازع کتاب کا نام کتاب الزمرد (Kitāb al-Zumurrud) ہے اور اس کا مصنف ابن الراوندی ہے- یہ کتاب اس لیے اہم نہیں کہ اس کے بارے میں سنسنی خیز کہانیاں بیان کی جاتی ہیں، بلکہ اس لیے کہ اس سے وابستہ بحث نے ایک بنیادی مسئلہ سامنے رکھا: مذہبی دعوے کی صداقت کو جانچنے کے لیے انسان کے پاس کون سا معیار ہونا چاہیے؟ کتاب الزمرد کو عموماً ابن الراوندی کی نبوت پر تنقید سے متعلق تصنیف کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس کا عنوان انگریزی میں The Book of the Emerald، یعنی ’’زمرد کی کتاب‘‘، ترجمہ کیا جاتا ہے۔

قدیم مسلم تھنکرز اور علمِ کلام کے مصنفین نے ابن الراوندی پر الزام لگایا کہ انہوں نے انبیاء کے معجزات، قرآن اور نبوت کے دعووں کو چیلنج کیا تھا۔ بعض روایات میں ان سے ایسے سخت اعتراضات منسوب کیے گئے ہیں جن میں معجزات کو فریب قرار دینے اور قرآن کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھانے کا ذکر ہے- کتاب الزمرد سے وابستہ سب سے اہم فلسفیانہ بحث نبوت کی ضرورت کے گرد گھومتی ہے- یعنی اگر نبی وہی بات بتاتا ہے جسے عقل پہلے ہی درست سمجھ سکتی ہے تو اس کی ضرورت کیا ہے؟ اور اگر وہ ایسی بات بتاتا ہے جسے عقل قبول نہیں کرتی تو انسان اس کی بات کو سچ کیوں تسلیم کرے؟ اچھا مذہبی روایات میں معجزات کو انبیاء کی صداقت کی نشانی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن معجزے کے بارے میں بھی کئی الگ سوالات پیدا ہوتے ہیں- تو اس کتاب کے مطابق تین سوال سامنے آتے ہیں- پہلا سوال یہ کہ کیا جس واقعے کو معجزہ کہا جا رہا ہے، وہ تاریخی طور پر واقعی پیش آیا؟
دوسرا سوال: اگر واقعہ پیش آیا تو کیا اس کی کوئی قدرتی، انسانی یا دوسری ممکنہ وضاحت موجود ہے؟تیسرا سوال: اگر واقعہ غیرمعمولی بھی تھا، تو کیا وہ لازماً یہ ثابت کرتا ہے کہ اسے پیش کرنے والا شخص خدا کا نبی ہے؟

مصنف نے اس کتاب میں ایک بنیادی فلسفیانہ سوال اٹھایا کہ کسی بھی کتاب کو خدا کا کلام قرار دینے کی بنیاد کیا ہے؟ اور کیا مقدس کتاب بھی سوال سے بالاتر ہے؟ ؟ کتاب الزمرد کی اہمیت اس کے عنوان یا اس سے وابستہ سنسنی خیز روایات میں نہیں، بلکہ اس بحث میں ہے جسے اس نے مذہبی فکر کے سامنے رکھا۔ یعنی اگر نبوت کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کی صداقت کس بنیاد پر جانچی جائے؟ اگر وحی کو خدا کی طرف سے قرار دیا جاتا ہے تو اس دعوے کی تصدیق کا معیار کیا ہوگا؟ اگر عقل کو مذہبی عقائد کے دفاع میں استعمال کیا جاتا ہے تو کیا اسی عقل کو ان عقائد کے بنیادی مقدمات پر سوال اٹھانے کی اجازت بھی ہونی چاہیے؟ یہ سوالات صرف ابن الراوندی کے زمانے تک محدود نہیں۔ آج بھی مذہبی فلسفے میں اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ انسانی عقل، تاریخی شہادت، مذہبی تجربے اور وحی کے درمیان کیا تعلق ہے؟

اب یہاں ایک اور بھی اہم سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ کیا کتاب الزمرد مذہب کے خلاف کوئی حتمی فیصلہ تھی؟
اس کا جواب ہے نہیں۔ کسی بھی متنازع کتاب کا وجود بذاتِ خود کسی فلسفیانہ سوال کا حتمی جواب نہیں ہوتا۔کتاب الزمرد سے وابستہ اعتراضات کو پڑھنے کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صرف اعتراضات گنوا دیے جائیں اور یہ فرض کر لیا جائے کہ ان کے جوابات موجود نہیں۔ بالکل اسی طرح مذہبی جوابات کی موجودگی یہ ثابت نہیں کرتی کہ تمام اعتراضات ختم ہو چکے ہیں- ابن الراوندی کی کتاب الزمرد کو اسلامی فکری تاریخ میں اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کہ اس سے وابستہ مباحث نے نبوت اور وحی کی ضرورت پر بنیادی سوالات اٹھائے-

اس کتاب کا مکمل متن ہمارے پاس موجود نہیں، اس لیے اس کے ہر اعتراض کو ابن الراوندی کا قطعی اور لفظی مؤقف قرار دینا درست نہیں۔ لیکن اس سے وابستہ تاریخی بحثیں یہ دکھاتی ہیں کہ ابتدائی اسلامی علمی دنیا میں نبوت، عقل اور مذہبی اتھارٹی کے بارے میں سنجیدہ اختلافات موجود تھے- مثال کے طور پر ابتدائی اسلامئ دنیا میں جن سنجیدہ سوالات پر بحث شروع ہوئی ان میں سب سے اہم سوالات یہ ہیں – کہ اگر کوئی شخص دعویٰ کرے کہ اسے خدا کی طرف سے پیغام ملا ہے تو ہم اس دعوے کو سچ ماننے کے لیے کون سی دلیل طلب کریں گے؟ کیا دعوے کی مذہبی اہمیت ہی اس کی صداقت کے لیے کافی ہے، یا اس کی تصدیق کے لیے الگ شواہد درکار ہیں؟ یہ سوالات مذہب کی مخالفت کرنے کے لیے اٹھائے جائیں یا اس کے دفاع کے لیے، ان سوالات کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔کتاب الزمرد کی تاریخی اہمیت شاید اسی میں ہے کہ اس نے مذہبی عقیدے کے ایک بنیادی مسئلے کو بحث کا موضوع بنایا: کہ کیا نبوت کا دعویٰ خود اپنی دلیل ہے، یا اس دعوے کی صداقت ثابت کرنے کے لیے کسی الگ دلیل کی ضرورت ہوتی ہے؟ یہ سوال آج بھی فلسفۂ مذہب میں زیرِ بحث ہے، اور اس کا سنجیدہ جواب دینے کے لیے صرف جذبات نہیں، بلکہ تاریخی شہادت، منطقی استدلال اور علمی دیانت درکار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے