اچانک ہاتھ دھونے نے کروڑوں انسانوں کے جان بچائی!
آج ہم سب جانتے ہیں کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور نرسیں مریض کو چھونے یا آپریشن کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ اینٹی سیپٹک سے صابن سے دھوتی ہیں۔ لیکن صرف 175 سال پہلے تک یہ سوچ بھی وجود نہیں رکھتی تھی!
۱۹ویں صدی کے وسط تک، ویانا (آسٹریا) کے سب سے بڑے ہسپتال میں زچگی (Childbirth) کے دوران ہر ۱۰ میں سے 3 خواتین ایک پراسرار بیماری "چائلڈ بیڈ فیور” (Childbed Fever) کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مر جاتی تھیں۔
1847ء میں ہنگری کے ایک ڈاکٹر اگناز سیملویس (Ignaz Semmelweis) نے ایک عجیب بات نوٹ کی۔ ہسپتال کے دو وارڈز تھے، پہلے وارڈ میں میڈیکل کے طلبہ مردہ خانے (Morgue) میں لاشوں کی چیر پھاڑ کرنے کے بعد سیدھا آ کر حاملہ خواتین کا معائنہ کرتے تھے۔ یہاں اموات کی شرح 15 سے 30 فیصد تھی۔ صرف دائی (Midwives) معائنہ کرتی تھیں جو لاشوں کو ہاتھ نہیں لگاتی تھیں۔ یہاں اموات کی شرح صرف 2 فیصد تھی۔
سیملویس نے اندازہ لگایا کہ ڈاکٹرز کے ہاتھوں کے ساتھ مردہ لاشوں کے کچھ "غیر مرئی ذرات” (Invisble Particles) چپک کر آئندہ مریضوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اس وقت تک سائنس ‘جراثیم’ (Germ Theory) سے ناواقف تھی۔

ڈاکٹر سیملویس نے اپنے وارڈ کے تمام ڈاکٹرز کے لیے یہ لازمی قرار دیا کہ وہ مردہ خانے سے آنے کے بعد اپنے ہاتھ کلورین کے محلول (Chlorine Solution) سے دھوئیں۔ اا کے نتیجے میں صرف چند ہفتوں میں اموات کی شرح 30 فیصد سے گر کر محض 1 فیصد پر آ گئی!
اگرچہ اس وقت کے روایتی ڈاکٹروں نے سیملویس کے اس نظریے کا مذاق اڑایا اور اسے پاگل خانے منتقل کر دیا، لیکن بعد میں لُوئی پاسچر (Louis Pasteur) اور جوزف لِسٹر (Joseph Lister) نے سیملویس کے نظریے کو سائنسی طور پر ثابت کیا۔

ہاتھ دھونے اور ہسپتالوں میں صفائی کے اس ایک سادے سے عمل نے پچھلے 150 سالوں میں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا اور جدید طب کی بنیاد رکھی
