کھیل

مراکش کی گھڑ سوار خواتین: روایات کے حصار میں ایک خاموش مگر خطرناک انقلاب

مراکش کے وسیع و عریض اور تاریخ میں ڈوبے ہوئے ریگستانوں، سرسبز وادیوں اور اٹلس کے پہاڑوں میں جب گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز گونجتی ہے، تو صدیوں سے یہ منظر مردانہ غلبے کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن آج، روایات کے اس قدیم حصار میں ایک ایسی تبدیلی جنم لے رہی ہے جس نے دنیا بھر کے میڈیا اور مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ گھوڑوں کی پشت پر سوار یہ نڈر خواتین، جنہیں مقامی زبان میں "تنتورۃ” (Tbourida) یا روایتی گھڑ سواری کے فن سے نسبت ہے، محض تفریح یا کھیل کے لیے میدان میں نہیں اتريں؛ بلکہ یہ ایک خاموش، پُراسرار اور طاقتور فیمینسٹ انقلاب کی علمبردار بن چکی ہیں۔

گھوڑوں کی پیٹھ پر سجی روایات کا پس منظر

مراکش کی ثقافت میں گھڑ سواری یا "تھویریدہ” کو انتہائی مقدس اور تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ صدیوں سے یہ میدان صرف مردوں کے لیے مخصوص رہا ہے۔ قبائلی سردار، جنگجو اور روایتی میلوں میں جوہر دکھانے والے سوار سب کے سب مرد ہوا کرتے تھے۔ خواتین کا کام گھر کی چار دیواروں تک محدود تھا، جہاں وہ کھیتی باڑی یا گھریلو امور سنبھالتی تھیں۔

تاہم، گزشتہ کچھ برسوں بالخصوص 2024 سے 2026 کے دوران اس منظرنامے میں ایک حیرت انگیز انقلابی موڑ آیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اب خواتین کی اپنی آزاد گھڑ سوار ٹیمیں (Sororities and Equestrian Collectives) تشکیل پا چکی ہیں۔ یہ خواتین روایتی ملبوسات میں ملبوس، ہاتھ میں بارود سے بھری بندوقیں تھامے جب میدان میں اپنے گھوڑوں کو دوڑاتی ہیں، تو وہ صرف روایت کو زندہ نہیں رکھتیں بلکہ یہ پیغام دیتی ہیں کہ اب طاقت اور بہادری پر صرف مردوں کی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے۔

ذاتی کہانی: فاطمہ زہرا کا عزم اور گھوڑوں کی لگام

اس انقلاب کی روح رواں کو سمجھنے کے لیے ہمیں مراکش کے ایک چھوٹے سے قصبے کی رہائشی تیس سالہ فاطمہ زہرا کی کہانی کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ فاطمہ کے خاندان میں نسلوں سے گھوڑے پالنے اور ان پر سواری کرنے کا رواج تھا، لیکن یہ رواج صرف مردوں کے لیے تھا۔ جب فاطمہ نے پہلی بار اپنے والد سے ضد کی کہ وہ بھی گھوڑے پر سوار ہونا چاہتی ہے، تو پورے خاندان اور قصبے نے اس پر شدید غصے کا اظہار کیا۔

"لوگ کہتے تھے کہ گھوڑے کی سواری عورتوں کا کام نہیں ہے، یہ نازک مزاجی کے خلاف ہے اور اس سے ہماری خاندانی عزت خراب ہوگی،” فاطمہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں۔

لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی۔ رات کی تاریکی میں اپنے بھائی کے پرانے لباس پہن کر اور چپکے سے اصطبل جا کر انہوں نے گھوڑے کی لگام سنبھالنا سیکھی۔ مہینوں کی محنت کے بعد، جب انہوں نے پہلی بار مقامی میلے میں اپنے گھوڑے کو ہوا کے دوش پر دوڑایا، تو روایتی معاشرے کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

آج فاطمہ اکیلی نہیں ہیں؛ ان کے ساتھ درجنوں ایسی لڑکیاں جڑ چکی ہیں جنہیں گھر والوں کے طعنے اور معاشرے کی قدامت پرستانہ سوچ کا سامنا تھا، لیکن آج وہ سب مل کر مراکش کی پہلی کل زن گھڑ سوار یونٹ کا حصہ ہیں۔

تبدیلی کتنی گہری ہے؟

مراکش کی وزارتِ ثقافت اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ برسوں میں روایتی کھیلوں اور گھڑ سواری میں خواتین کی شمولیت میں 40 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یونسکو کی فہرست اور خواتین کا کردار: مراکش کی روایتی گھڑ سواری (Tbourida) کو یونسکو (UNESCO) کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس ورثے کو زندہ رکھنے میں اب مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے گروپس بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

خواتین کی تنظیمیں

مراکش کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں اب تک 15 سے زائد باقاعدہ خواتین کے گھڑ سوار کلب رجسٹر ہو چکے ہیں، جو قومی میلوں (Moussems) میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

معاشی اور سماجی خود مختاری: یہ گھڑ سواری صرف شوق نہیں رہی بلکہ ان خواتین کے لیے معاشی خودمختاری کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔ حکومت اور سیاحتی ادارے اب ان خواتین کو خصوصی گرانٹس اور پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں تاکہ ملک میں خواتین کی سیاحت اور ثقافتی ورثے کو فروغ مل سکے۔

مخالفت سے قبولیت تک کا کٹھن سفر

ہر نئے انقلاب کی طرح، اس گھڑ سوار تحریک کو بھی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دیہی علاقوں میں قدامت پسند طبقے نے فتوے جاری کیے کہ گھوڑے پر بیٹھنا خواتین کے وقار کے منافی ہے۔ کچھ مقامات پر ان خواتین کو سماجی بائیکاٹ کا بھی سامنا کرنا پڑا، اور ان کے گھوڑوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں۔
مگر ان بہادر خواتین کا استعارہ بالکل واضح تھا: اگر گھوڑا کسی صنف کو دیکھ کر نہیں دوڑتا، تو سوار بھی صنف کی بنیاد پر کیوں پرکھا جائے؟

جب ان خواتین نے بین الاقوامی میڈیا اور ملکی سطح پر اپنی شاندار مہارت کا لوہا منوایا، تو آہستہ آہستہ معاشرے کی سوچ بدلنے پر مجبور ہو گئی۔ وہ مرد جو کل تک ان پر ہنستے تھے، آج ان کے ہنر کے اعتراف میں تالیاں بجانے پر مجبور ہیں۔

روایات کے حصار میں ایک روشن مستقبل

مراکش کی ان گھڑ سوار خواتین کا یہ سفر محض تفریح یا کھیل کا میدان نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ کس طرح کچلے طبقات اور خواتین روایات کے آہنی حصار کو توڑ کر باہر نکل سکتے ہیں۔ جب ایک عورت گھوڑے کی لگام اپنے ہاتھ میں لیتی ہے، تو وہ دراصل اپنی زندگی، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے رہی ہوتی ہے۔

مراکش کی زمین پر اٹھنے والی یہ گھوڑوں کی ٹاپیں آنے والے وقت کے اس فیمینسٹ انقلاب کی آواز ہیں جو کسی شور شرابے کے بغیر، پُرعزم اور خاموش انداز میں تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے