عالمی دنیا

طالبان اور بوکو حرام — ماؤں، بیٹیوں، بہنوں اور انسانوں کے مشترکہ دشمن

تاریخِ اسلام میں کسی بھی کلاسیکی اسلامی ریاست، خلافت (عثمانیہ، عباسی، اموی) یا مسلم حکومت نے قانونی یا سرکاری طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی عائد نہیں کی۔ بلکہ اسلامی تاریخ میں خواتین کی علمی و تعلیمی خدمات کی نمایاں مثالیں ملتی ہیں (مثلاً دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ‘القرویین’ کی بنیاد 859ء میں ایک مسلم خاتون فاطمہ الفہری نے رکھی تھی)۔

لڑکیوں کی تعلیم پر حکومتی یا تنظیم کی سطح پر مکمل پابندی کا رجحان صرف جدید دور کے چند شدت پسند اور انتہا پسند گروہوں میں ہی دیکھا گیا ہے- افغانستان میں طالبان کا اقتدار میں آنا افغان خواتین کے لیے ایک ایسا تاریک باب ثابت ہوا ہے جس کی مثال جدید دنیا میں نہیں ملتی۔

طالبان کا پہلا دور (1996ء تا 2001ء)

افغانستان میں طالبان نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بھی لڑکیوں کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر اسی طرح کی مکمل پابندی عائد کر رکھی تھی۔

تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) نے 2007ء سے 2009ء کے دوران پاکستان کے وادی سوات اور قبائلی اضلاع میں TTP نے لڑکیوں کے سکول جانے پر مکمل پابندی لگائی تھی، سینکڑوں سکولوں کو بم دھماکوں سے تباہ کیا اور تعلیمی فعال پسندوں (بشمول ملالہ یوسفزئی) کو نشانہ بنایا۔

انسانی تاریخ میں علم اور شعور کو ہمیشہ تاریکی سے روشنی کی طرف سفر کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ بالخصوص کسی معاشرے میں عورت کی تعلیم صرف ایک فرد کی تربیت نہیں بلکہ پوری نسل کی تہذیب، ترقی اور بقا کی ضمانت ہوتی ہے۔ لیکن اکیسویں صدی کے اس دور میں بھی چند ایسے متشدد اور شدت پسند گروہ موجود ہیں جنہوں نے عورت کی ذات، اس کی آزادی اور اس کے بنیادی حقِ تعلیم کے خلاف کھلم کھلا جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

افغانستان کے طالبان اور نائجیریا کی متشدد تنظیم بوکو حرام اس بدنما سوچ کی بدترین اور المناک ترین مثالیں ہیں۔ یہ دونوں گروہ، جن کا دعویٰ مذہب کی نمائندگی ہے، درحقیقت ماؤں، بیٹیوں، بہنوں اور پور انسانیت کے مشترکہ دشمن کے طور پر ابھرے ہیں۔

نائجیریا اور مغربی افریقہ میں فعال تنظیم "بوکو حرام” اسی فکر کی ذیلی اور زیادہ متشدد شکل پیش کرتی ہے۔ ہوسا زبان میں اس کے نام کے لفظی معنی ہی "مغربی/جدید تعلیم حرام ہے” کے ہیں۔ بوکو حرام نے اپنے اس پرتشدد نظریے کے تحت نہ صرف سیکیولر تعلیم کی مخالفت کی بلکہ لڑکیوں کی تعلیم کو خاص طور پر اپنے تشدد کا نشانہ بنایا۔ 2014ء کا چیبوک (Chibok) کا وہ المناک واقعہ جس میں 276 سکول کی لڑکیوں کو ان کے ہاسٹل سے اغوا کر لیا گیا تھا، بوکو حرام کے بربرانہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ ان کے ہاں بیٹیوں کو تعلیم دینے کے بجائے کم عمری کی زبردستی شادیوں، جنسی غلامی اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

مجموعی طور پر، بوکو حرام نے اپنے زیرِ اثر علاقوں میں لڑکیوں کے کسی بھی سیکیولر یا جدید سکول جانے پر سخت عملی پابندی عائد کی اور تشدد کے ذریعے تعلیم کے پورے نظام کو مختل کیا۔

طالبان اور بوکو حرام کا مشترکہ اثاثہ

طالبان اور بوکو حرام کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دونوں کا طریقۂ کار اگرچہ مختلف ہو سکتا ہے، لیکن ان کا بنیادی ہدف ایک ہی ہے: عورت کو بے بس، ان پڑھ اور مفلوج بنانا۔ طالبان ریاست کے جبر اور احکامات کا سہارا لے کر تعلیمی اداروں کے دروازے بند کرتے ہیں، جبکہ بوکو حرام بم دھماکوں، اغوا کاری اور قتل و غارت کے ذریعے خوف کا ماحول پیدا کر کے لڑکیوں کو سکولوں سے دور رکھتی ہے۔ دونوں ہی گروہ عورت کو ایک خودمختار انسانی وجود تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اسے صرف ایک محکوم اور تابع حالت میں دیکھنا چاہتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے