ایک فرضی داستانوی کردار جس نے خالق کی زندگی تباہ کر دی!
لندن کا سال 1893ء ، شام کے وقت بیکر اسٹریٹ (Baker Street) کے مکان نمبر 221B کے باہر ڈاکیا پیغامات کا ایک نیا ڈھیر رکھ کر جاتا ہے۔ ان لفافوں پر لکھا تھا: "بنام مسٹر شیرلاک ہومز، بیکر اسٹریٹ، لندن”۔
یہ وہ دور تھا جب برطانیہ کے ہزاروں باشندے ایک ایسے انسان کو مدد کے لیے پکار رہے تھے جس کا دنیا میں کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ وہ انسان محض کاغذ کے صفحات پر روشنائی سے تراشا گیا ایک فرضی کردار تھا—ایک نجی جاگو سراغ رساں (Consulting Detective) جس کا نام شیرلاک ہومز (Sherlock Holmes) تھا۔ ادب کی پوری تاریخ میں کوئی بھی فرضی کردار ایسا ثابت نہ ہو سکا جس نے اپنے ہی خالق کی زندگی کو یوں نگل لیا ہو اور حقیقت اور فکشن کے درمیان کی سرحد کو مٹا دیا ہو۔
ایک ڈاکٹر کا ذہن اور استاد کا عکس
شیرلاک ہومز کے خالق سر آتھر کونن ڈائل (Sir Arthur Conan Doyle) پیشے کے اعتبار سے ایک آنکھوں کے ڈاکٹر تھے۔ 1880ء کی دہائی میں جب ان کی کلینکل پریکٹس کچھ خاص نہیں چل رہی تھی، تو انہوں نے اضافی آمدنی کے لیے کہانی نویسی کا رخ کیا۔
ڈائل نے ہومز کی زبردست مشاہداتی اور منطقی صلاحیت کا خاکہ اپنے استاد ڈاکٹر جوزف بیل (Dr. Joseph Bell) سے مستعار لیا۔ ڈاکٹر بیل مریض کے منہ کھولنے سے پہلے ہی اس کے چلنے کے انداز، جوتوں کی مٹی اور کپڑوں کے نشانات دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اس کا پیشہ کیا ہے اور وہ کس علاقے سے آیا ہے۔
کونن ڈائل نے سوچا کہ اگر طبی دنیا کے اس مشاہداتی طریقے کو جرائم کی تفتیش میں استعمال کیا جائے تو کیسا سنسنی خیز کردار سامنے آئے گا۔ اسی سوچ کے نتیجے میں 1887ء میں ہومز کا پہلا ناول "اسٹڈی ان اسکارلیٹ” (A Study in Scarlet) منظرِ عام پر آیا۔
بیکر اسٹریٹ اور خطوط کا سیلاب
اصل دھماکہ 1891ء میں ہوا جب لندن کے مشہور جریدے ‘دی اسٹرینڈ میگزین’ (The Strand Magazine) میں شیرلاک ہومز کی مختصر کہانیاں سلسلہ وار شائع ہونا شروع ہوئیں۔ ہومز اپنی چھتری، پائپ، وائلن اور تیز دھار منطق کی مدد سے ان تمام رازوں سے پردہ اٹھاتا جو اسکاٹ لینڈ یارڈ (لندن پولیس) کے لیے ناقابلِ حل ہوتے۔
کہانیوں کی مقبولیت اتنی پھیلی کہ لوگوں کے ذہنوں میں فکشن اور حقیقت کا فرق مٹ گیا۔
لوگ اپنے گم شدہ رشتہ داروں کی تلاش، چوری شدہ جائیداد کی تفتیش اور گھریلو مسائل کے لیے بیکر اسٹریٹ 221B کے پتے پر خطوط بھیجنے لگے۔
اس زمانے میں بیکر اسٹریٹ پر ‘221B’ نام کا کوئی مکان ہی موجود نہیں تھا! لیکن خطوط کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی کہ برطانوی پوسٹ افس کو ان کی چھانٹی کے لیے الگ سے انتظام کرنا پڑا۔
سالوں بعد جب وہاں عمارتیں بنیں، تو ایک معروف ادارے (Abbey National) نے باقاعدہ ایک سیکرٹری کا تقرر کیا جس کا کام ہومز کے نام آنے والے خطوط کے جواب میں یہ لکھنا تھا: "مسٹر ہومز اس وقت ریٹائر ہو کر دیہات میں شہد کی مکھیاں پال رہے ہیں اور مزید کیسز قبول نہیں کرتے۔”
"دی فائنل پرابلم”: جب مصنف نے ہومز کو قتل کر دیا
آتھر کونن ڈائل کے لیے یہ مقبولیت ایک عذاب بن گئی۔ وہ خود کو ایک سنجیدہ تاریخی مصنف مانتے تھے، لیکن دنیا ان کی کسی اور تحریر کو پڑھنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
۱۸۹۳ء میں شائع ہونے والی کہانی "دی فائنل پرابلم” (The Final Problem) میں ڈائل نے سوئٹزرلینڈ کے ‘رائیچنباخ فالز’ (Reichenbach Falls) پر شیرلاک ہومز اور اس کے دشمن پروفیسر موریارٹی کے درمیان معرکہ دکھایا اور دونوں کو ابشار کی گہرائیوں میں گرا کر ہومز کو "قتل” کر دیا۔
لندن کا سوگ اور تاریخ کا پہلا "فین پروٹسٹ”
لندن کی سڑکوں پر ہزاروں شہریوں نے سوگ میں اپنے بازوؤں پر سیاہ کپڑے کی پٹیاں باندھ لیں۔ ‘دی اسٹرینڈ میگزین’ کے 20 ہزار سے زائد قارئین نے ایک ہی دن میں رسالے کی خریداری منسوخ کر دی۔ کونن ڈائل کو غصے سے بھرے خطوط ملنے لگے، جن میں سے ایک میں لکھا تھا: "تم نے ایک عظیم روح کا قتل کیا ہے!” عوام کے شدید دباؤ کے بعد کونن ڈائل کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور 1903ء میں کہانی "دی ایمپٹی ہاؤس” کے ذریعے یہ انکشاف کر کے ہومز کو دوبارہ زندہ کرنا پڑا کہ وہ ابشار سے بچ نکللا تھا۔
فارنزک سائنس پر اثرات
شیرلاک ہومز کی کہانیوں نے حقیقت کی پولیس تفتیش کو بھی نیا راستہ دکھایا- کونن ڈائل نے ہومز کے ذریعے کہانیوں میں انگلیوں کے نشانات (Fingerprints) کا استعمال اس وقت شروع کرایا جب لندن پولیس نے باقاعدہ طور پر اسے نہیں اپنایا تھا۔ فرانس کے معروف سائنسدان ایڈمنڈ لوکارڈ (Edmond Locard) نے ہومز کے اصولوں سے متاثر ہو کر دنیا کی پہلی جدید فارنزک لیبارٹری کی بنیاد رکھی۔
سر آتھر کونن ڈائل کا انتقال 1930ء میں ہوا، لیکن ان کا تخلیق کردہ کردار شیرلاک ہومز آج بھی زِندہ ہے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق شیرلاک ہومز دنیا میں سب سے زیادہ فلمایا جانے والا ادبی انسانی کردار ہے۔ لندن کے بیکر اسٹریٹ پر آج بھی اس کا میوزیم اور مجسمہ موجود ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر تخیل سچا ہو تو کاغذ پر لکھا ایک فرضی نام بھی حقیقت پر غالب آ سکتا ہے
