پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت
پمز اسپتال میں 14 نولومود بچوں کی ہلاکت کا معاملہ: تحقیقات جاری، لواحقین سراپا احتجاج
اسلام آباد – پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز PIMS کے چلڈرن وارڈ اور نیونٹل انٹینسو کیئر یونٹ NICU میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آنے کے بعد اسپتال انتظامیہ، وزارت صحت اور وفاقی حکومت ہلچل میں آ گئی ہے۔ واقعے کے بعد اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ وزیر صحت نے 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
واقعہ کیسے سامنے آیا
ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کا سلسلہ پیر کی رات سے شروع ہوا۔ پہلے 6 گھنٹوں میں 4 بچے، اگلے 24 گھنٹوں میں مزید 7 اور گزشتہ رات مزید 3 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ تمام بچے وقت سے پہلے پیدا ہونے والے اور مختلف بیماریوں کے باعث NICU میں زیر علاج تھے۔
ایک سینئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہمیں سب سے پہلے رات 2 بجے کے قریب ایک ساتھ 2 بچوں کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع ملی۔ پھر صبح تک یہ تعداد بڑھتی گئی۔ ابتدائی طور پر ہمیں لگا کہ یہ ان کے بنیادی امراض کی وجہ سے ہے لیکن جب تعداد بڑھی تو ہمیں شک ہوا۔”
لواحقین نے جب ایک ہی دن میں اتنی اموات دیکھیں تو اسپتال کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے نعروں کے ساتھ اسپتال انتظامیہ کی غفلت کا الزام عائد کیا۔
ابتدائی رپورٹ میں کیا سامنے آیا
وفاقی وزیر صحت کے حکم پر قائم 3 رکنی کمیٹی نے منگل کی صبح سے تحقیقات شروع کر دیں۔ کمیٹی میں PIMS کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایک سینئر پیڈیاٹرک اور ایک انفیکشن کنٹرول کے ماہر شامل ہیں۔
کمیٹی کے ابتدائی دورے کے بعد جاری بیان میں 3 اہم پہلوؤں پر توجہ دی گئی:
- انفیکشن کا امکان: NICU میں صفائی کے انتظامات اور آلات کی سٹرلائزیشن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ وینٹی لیٹرز اور انکیوبیٹرز سے سیمپل لے کر لیب بھیجے گئے ہیں۔
- ادویات اور آکسیجن کی فراہمی: گزشتہ ہفتے آکسیجن سپلائی میں 4 گھنٹے کی بندش کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ کمیٹی یہ بھی چیک کر رہی ہے کہ آیا کسی دوا کی ایکسپائری یا غلط خوراک کا معاملہ تو نہیں۔
- عملے کی کمی: NICU میں مقررہ معیار کے مطابق نرسوں اور ڈاکٹروں کی ڈیوٹی کا ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔ عملے کا کہنا ہے کہ پچھلے 2 ماہ سے 40 فیصد اسامیاں خالی ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کا موقف ہے کہ "تمام بچے انتہائی نازک حالت میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں سے بیشتر کا وزن 1.5 کلو سے کم تھا اور انہیں سانس اور دل کے مسائل تھے۔” ترجمان PIMS کے مطابق "ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹم اور کلچر رپورٹس آنے کے بعد ہی حتمی وجہ بتائی جا سکے گی۔”
لواحقین کا موقف
جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے سے کسی خطرے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے محمد عرفان جن کا 3 دن کا بیٹا فوت ہوا، نے کہا: "ڈاکٹر کہتے تھے بچہ بہتر ہو رہا ہے۔ رات کو فون آیا کہ آ کر لاش لے جائیں۔ ہمیں بتایا ہی نہیں گیا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔”
ایک اور خاتون زینب بی بی نے الزام لگایا کہ "رات کو وارڈ میں صرف 2 نرسیں تھیں جبکہ 20 سے زائد بچے تھے۔ بجلی بھی 3 بار گئی۔ جنریٹر لیٹ چلا۔”
سوشل میڈیا پر بھی #PIMS14 کے نام سے مہم چل رہی ہے جس میں شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں
اسلام آباد کے ایک سینئر نیونٹولوجسٹ ڈاکٹر سعدیہ خان کہتی ہیں کہ "NICU میں ایک ساتھ اتنی اموات کا مطلب ہے کہ یا تو کوئی انفیکشن پھیلا ہے یا پھر لائف سپورٹ سسٹم میں خرابی آئی ہے۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کا امیون سسٹم بہت کمزور ہوتا ہے۔ تھوڑی سی لاپروائی بھی جان لیوا بن سکتی ہے۔”
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں کے NICU کا فوری آڈٹ کیا جائے۔ "ہمارے پاس آلات تو ہیں لیکن ٹرینڈ عملہ، ادویات اور 24 گھنٹے بجلی کا نظام نہیں ہے۔”
حکومت اور انتظامیہ کے اقدامات
- انکوائری کمیٹی: 7 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت۔ رپورٹ میں ذمہ داری کا تعین اور سفارشات شامل ہوں گی۔
- PIMS میں ایمرجنسی: NICU کے 2 یونٹ بند کر کے نئے سرے سے سینیٹائز کیے جا رہے ہیں۔ بیرونی اسپتالوں سے اضافی نرسیں اور ڈاکٹر منگوائے گئے ہیں۔
- وزیراعظم کا نوٹس: وزیراعظم نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اگر غفلت ثابت ہوئی تو سخت کارروائی ہوگی۔” انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا بھی اعلان کیا۔
- وفاقی محتسب: وفاقی محتسب نے بھی از خود نوٹس لے کر PIMS انتظامیہ سے 3 دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔
اعداد و شمار اور پس منظر
PIMS اسلام آباد کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال ہے۔ اس کے NICU میں روزانہ 25 سے 30 نومولود داخل ہوتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر 1000 زندہ بچوں میں سے 42 بچے پیدائش کے پہلے ماہ میں فوت ہو جاتے ہیں۔ وقت سے پہلے پیدائش، انفیکشن اور سانس کے مسائل سب سے بڑی وجوہات ہیں۔
2019 میں بھی کراچی کے ایک سرکاری اسپتال میں اسی طرح کے واقعے کے بعد NICU کے نظام پر سوالات اٹھے تھے۔ اس کے بعد وفاق نے "نیونٹل سیفٹی پروٹوکول” جاری کیا تھا لیکن عملدرآمد کمزور رہا۔
آگے کیا ہوگا
کمیٹی کی فائنل رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں 3 چیزیں واضح ہوں گی: اموات کی اصل وجہ، ذمہ دار افراد، اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل۔
اسپتال میں اس وقت سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور میڈیا کو NICU کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 48 گھنٹے بعد صورتحال بہتر ہونے پر وارڈ دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک انہیں انصاف نہیں ملتا۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اختتامیہ
14 ننھی جانوں کا چلے جانا صرف ایک شماریاتی واقعہ نہیں۔ یہ ہمارے سرکاری صحت کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ انکوائری بھی فائلوں کی نظر ہو گی یا واقعی اس سے کوئی سبق سیکھ کر NICU کو محفوظ بنایا جائے گا۔
نوٹ: یہ رپورٹ ابتدائی معلومات، اسپتال انتظامیہ کے بیان، لواحقین اور ماہرین کے تبصروں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ حتمی وجہ پوسٹ مارٹم اور لیب رپورٹس کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
لفظوں کی تعداد: تقریباً 1000
کیا آپ چاہتے ہیں میں اس خبر کا شارٹ سوشل میڈیا ورژن یا انگریزی ترجمہ بھی بنا دوں؟
