سائنس

ہمارا دماغ ہر روز نئی یادیں کیسے بناتا ہے؟

کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی بالکل نئے شہر کی گلی سے گزر رہے ہوں، یا کسی انسان سے پہلی بار مل رہے ہوں، اور اچانک آپ کے اندر ایک عجیب و غریب سنسنی خیز احساس جاگے کہ "یہ منظر، یہ لمحات اور یہ گفتگو میں پہلے بھی بالکل اسی طرح دیکھ اور جی چکا ہوں”؟

اس پراسرار احساس کو فرانسیسی زبان میں "ڈیجا وو” (Déjà Vu) کہا جاتا ہے، جس کا لفظی مطلب ہے "پہلے سے دیکھا ہوا”۔ صدیوں تک انسان اسے پچھلے جنم، خوابوں کی سچائی یا کسی ماورائے عدالت روحانی تجربے سے جوڑتا رہا۔ لیکن جدید اعصابی سائنس (Neuroscience) نے دماغ کے کیمیائی اور برقی نیٹ ورک کا سراغ لگا کر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

86 ارب نیورانز کا سوپر کمپیوٹر

ڈیجا وو کے راز کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارا دماغ معلومات کو کیسے پروسیس کرتا ہے اور نئی یادیں (Memories) کیسے بناتا ہے۔انسانی دماغ میں تقریباً 86 ارب نیورانز (Neurons) موجود ہیں، جو ایک دوسرے سے اربوں چھوٹے رابطوں، جنہیں سائنپسیز (Synapses) کہا جاتا ہے، کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ جب بھی ہم کوئی نئی بات سیکھتے ہیں یا کوئی نیا منظر دیکھتے ہیں، تو نیورانز کے درمیان ایک خاص برقی سگنل دوڑتا ہے اور کیمیائی مادے (Neurotransmitters) خارج ہوتے ہیں۔

دماغ کا ایک مخصوص حصہ جسے ہپوکیمپس (Hippocampus) کہا جاتا ہے، ہماری یادوں کا مرکزی پروسیسر اور پرنٹر ہے۔ یہ ہمارے تمام روزمرہ تجربات کو جمع کرتا ہے اور انہیں دو بنیادی حصوں میں تقسیم کرتا ہے:

  1. شارٹ ٹرم میموری (Short-term Memory): جو چند سیکنڈز یا منٹوں کے لیے معلومات کو محفوظ رکھتی ہے (جیسے کوئی نیا فون نمبر)۔
  2. لانگ ٹرم میموری (Long-term Memory): ہپوکیمپس اہم معلومات کو دماغ کے بیرونی حصے (Cerebral Cortex) میں بھیج کر انہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیتا ہے-

یادوں کی کیمسٹری: دماغ راستے کیسے بناتا ہے؟
جب آپ کوئی نیا تجربہ بار بار دہراتے ہیں، تو نیورانز کا وہ مخصوص راستہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے۔ سائنس کی زبان میں اسے سائنپٹک پلاسٹسٹی (Synaptic Plasticity) کہتے ہیں۔

مثال کے طور پر، جب آپ پہلی بار سائیکل چلانا سیکھتے ہیں، تو نیورانز کا رابطہ کمزور ہوتا ہے۔ لیکن مسلسل مشق سے نیورانز کا وہ روٹ اتنا پکا ہو جاتا ہے کہ بعد میں آپ کو سوچنا بھی نہیں پڑتا—یہ معلومات آپ کی لانگ ٹرم میموری کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں۔

ڈیجا وو’ کا سائنسی راز: دماغ کا ‘ٹائمنگ زلزلہ’
اگر ہمارا دماغ اتنی مہارت سے معلومات کو الگ الگ خانوں میں رکھتا ہے، تو ڈیجا وو کا دھوکہ کیوں ہوتا ہے؟
نیورولوجسٹس کے مطابق، ڈیجا وو کوئی روح کا کھیل یا غیبی اشارہ نہیں ہے، بلکہ یہ دماغ کے پروسیسنگ سسٹم میں محض چند ملی سیکنڈز کی تاخیر (Glitch) یا برقی ناہمواری ہے۔
ڈیجا وو کے پیچھے بنیادی طور پر دو اہم سائنسی نظریات کام کرتے ہیں:

1- ڈبل پروسیسنگ یا ‘اسپلٹ اٹینشن’ (Split Perception):

جب ہم کسی منظر کو دیکھتے ہیں، تو ہماری آنکھیں دو الگ الگ طریقوں سے معلومات دماغ کو بھیجتی ہیں۔ کبھی کبھار، شدید تھکاوٹ، کشیدگی یا توجہ بٹنے کی وجہ سے، ایک سگنل دماغ کے بصری مرکز (Visual Cortex) تک ۰.۰۰۱ سیکنڈ پہلے پہنچ جاتا ہے اور ہپوکیمپس اسے فوراً ‘ماضی کی یاد’ کے خانے میں پروسیس کر دیتا ہے۔

جب دوسرا سگنل مائیکرو سیکنڈز کی تاخیر سے پہنچتا ہے، تو دماغ کو لگتا ہے کہ وہ اس منظر کو اس وقت نہیں دیکھ رہا، بلکہ یہ اس کی یاداشت سے آ رہا ہے۔

غلط شناسا ہیپو کیمپس (Dual Processing Friction):

ہپوکیمپس میں دو الگ الگ سب سسٹم ہوتے ہیں: ایک کا کام "پہچان” (Familiarity) کا احساس دلانا ہے، اور دوسرے کا کام "تفصیلات” (Recall) فراہم کرنا ہے۔
اگر آپ کسی ایسی جگہ جائیں جو آپ کے ماضی کے کسی دیکھے ہوئے منظر (مثلاً کسی فلم کے سیٹ یا بچپن کی دکان) سے تھوڑی سی ملتی جلتی ہو، تو ہپوکیمپس کا "پہچان” والا حصہ فوری طور پر ایکٹیو ہو جاتا ہے اور شدید آشنائی کا سیگنل دیتا ہے، لیکن "تفصیلات” والا حصہ بیک اپ ڈیٹا تلاش کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ اس تضاد کے نتیجے میں انسان کو ڈیجا وو محسوس ہوتا ہے۔

کون سے لوگ ڈیجا وو زیادہ محسوس کرتے ہیں؟
سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ:

عمر کا اثر: ۱۵ سے ۲۵ سال کی عمر کے نوجوانوں میں ڈیجا وو کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ اس عمر میں دماغ کا نیورل نیٹ ورک اور سائنپٹک سرکٹس انتہائی فعال اور حساس ہوتے ہیں۔

تھکاوٹ اور ذہنی دباؤ: نیند کی کمی، ذہنی تناؤ (Stress) اور سفر کرنے والے افراد میں یہ عمل زیادہ دیکھا گیا ہے، کیونکہ تھکے ہوئے نیورانز کے سگنل ٹائم میں تاخیر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

مرگی (Epilepsy) کے مریض: دماغ کے ٹیمپورل روب (Temporal Lobe) کی مرگی کے مریضوں کو دورہ پڑنے سے بالکل پہلے شدید اور مسلسل ڈیجا وو کا سامنا ہوتا ہے۔

انسان کا دماغ 20 واٹ سے بھی کم بجلی کی طاقت پر چلنے والا ایک ایسا حیران کن سائنسی شاہکار ہے جس کی پروسیسنگ کا مقابلہ دنیا کا بڑے سے بڑا سپر کمپیوٹر بھی نہیں کر سکتا۔’ڈیجا وو’ اصل میں ہمارے دماغ کی ناکامی نہیں، بلکہ اس کی زبردست رفتار اور حساسیت کا ثبوت ہے۔ یہ چند ملی سیکنڈز کی وہ سائنسی غلطی ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہماری سوچ، ہماری یادیں اور ہمارا وجود نیورانز اور کیمیائی مادوں کے ایک انتہائی باریک اور پراسرار جال سے جڑا ہوا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے