کائینات کو جوڑنے والا “ڈارک میٹر” کیا ہے؟

7/31/20261 min read

رات کی تاریکی میں جب ہم آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں، تو ہمیں بے شمار چمکتے ہوئے ستارے، سیارے اور روشنی کے جھرمٹ نظر آتے ہیں۔ انسان صدیوں سے یہی سمجھتا رہا ہے کہ یہ چمکتی ہوئی کائنات ہی کل حقیقت ہے۔ لیکن جدید سائنس اور فلکیات (Astrophysics) نے ایک ایسا ہوش ربا اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے جس نے انسانی عقل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ تمام تر ستارے، سيارے، کہکشائیں (Galaxies)، ہم اور آپ، اور وہ تمام مادّہ جسے ہم دیکھ، چھو یا سائنسدان اپنی جدید ترین دوربینوں سے محسوس کر سکتے ہیں—وہ اس عظیم کائنات کا صرف اور صرف 5 فیصد ہے۔ باقی 95 فیصد کائنات ایک ایسے پراسرار، غیر مرئی (Invisible) اور نا معلوم مادّے اور توانائی پر مشتمل ہے جس کے بارے میں ہم آج بھی تقریباً کچھ نہیں جانتے۔ اس پوشیدہ کائنات میں سے تقریباً 27 فیصد حصہ "ڈارک میٹر" (Dark Matter) کہلاتا ہے۔

وہ دریافت جس نے فزکس کے قوانین پر سوال اٹھا دیے

ڈارک میٹر کی کہانی کا آغاز 20ویں صدی کے شروعاتی سالوں میں ہوا۔ 1933ء میں سوئس فلکیات دان فرٹز زویکی (Fritz Zwicky) کہکشاؤں کے ایک بہت بڑے جھرمٹ "کوما کلسٹر" (Coma Cluster) کا مطالعہ کر رہے تھے۔انہوں نے نیوٹن اور آئن سٹائن کے کششِ ثقل (Gravity) کے قوانین کے مطابق کہکشاؤں کی حرکت اور ان کی رفتار کا حساب لگایا تو نتائج انتہائی حیران کن تھے- ان کے مطابق کہکشاؤں کے اس جھرمٹ کے اندر موجود تمام نظر آنے والے ستاروں اور گیسوں کا مجموعی کمیت (Mass) اتنا کم تھا کہ ان کی کششِ ثقل اتنی شدید رفتار سے گھومتی ہوئی کہکشاؤں کو ایک ساتھ باندھ کر نہیں رکھ سکتی تھی۔ فزکس کے قوانین کے مطابق ان کہکشاؤں کو اتنی تیز رفتاری کے باعث چرخے کی طرح بکھر کر خلا کے لامتناہی اندھیروں میں گم ہو جانا چاہیے تھا۔

زویکی نے نتیجہ اخذ کیا کہ کہکشاؤں کے اندر لازمی طور پر کوئی ایسا "پراسرار اور ان دیکھا مادہ" موجود ہے جو اپنی شدید کششِ ثقل کے ذریعے ان کہکشاؤں کو بکھرنے سے روکے ہوئے ہے۔ انہوں نے اسے جرمن زبان میں Dunkle Materie یعنی "ڈارک میٹر" کا نام دیا۔

ویرا روبن اور کائنات کا گھومتا ہوا چرخہ

ابتدائی طور پر زویکی کے نظریے کو سائنسدانوں نے زیادہ اہمیت نہیں دی اور اسے ایک حساباتی غلطی سمجھا گیا۔ لیکن 1970 کی دہائی میں امریکی خاتون فلکیات دان ویرا روبن (Vera Rubin) نے اس راز سے ہمیشہ کے لیے پردہ اٹھا دیا۔ ویرا روبن نے اسپارل کہکشاؤں (Spiral Galaxies) کے گھومنے کی رفتار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ فزکس کا بنیادی قانون ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں جو سیارہ سورج کے جتنے قریب ہے (جیسے عطارد)، وہ اتنی ہی تیز رفتاری سے گردش کرتا ہے، اور جو دور ہے (جیسے نیپچون)، وہ اتنی ہی سست رفتاری سے گھومتا ہے۔ روبن نے توقع کی تھی کہ کہکشاں کے مرکز سے دور موجود ستارے سست رفتاری سے گھوم رہے ہوں گے، لیکن ڈیٹا نے سب کو ششدر کر دیا۔

کیونکہ کہکشاں کے بالکل بیرونی کنارے پر موجود ستارے بھی اتنی ہی تیز رفتاری سے گھوم رہے تھے جتنی رفتار سے مرکز کے قریب کے ستارے! یہ تبھی ممکن تھا جب پوری کہکشاں کے گرد ڈارک میٹر کا ایک بہت بڑا، ان دیکھا ہالو (Halo) موجود ہو جو ہر جگہ یکساں کششِ ثقل فراہم کر رہا ہو۔

'ڈارک میٹر' آخر کیا ہے اور کیا نہیں؟

ڈارک میٹر کو "ڈارک" یا تاریک اس لیے نہیں کہا جاتا کہ یہ سیاہ رنگ کا ہے، بلکہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ روشنائی یا کسی بھی قسم کی الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن (روشنی، ایکسرے، ریڈیو ویوز) کو نہ تو خارج کرتا ہے، نہ جذب کرتا ہے اور نہ ہی منعکس (Reflect) کرتا ہے۔

یہ ہماری عام دنیا کے مادّے سے بالکل مختلف ہے- عام مادہ (Baryonic Matter)، یہ الیکٹران، پروٹون اور نیوٹران سے مل کر بنتا ہے۔ یہ روشنی سے تعامل (Interact) کرتا ہے، جس کی وجہ سے ہم چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ مگر ڈارک میٹر عام ایٹمز سے مل کر نہیں بنا۔ یہ روشنی کے لیے مکمل طور پر شفاف (Transparent) ہے۔ اگر آپ کے ہاتھ میں ڈارک میٹر کا ایک ٹکڑا ہو، تو روشنی اس میں سے ایسے گزر جائے گی جیسے وہاں کچھ ہے ہی نہیں، اور وہ آپ کے ہاتھ اور زمین کے آر پار نکل جائے گا۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ڈارک میٹر شاید ایسے بنیادی ذرات سے مل کر بنا ہے جنہیں ہم نے ابھی تک دریافت نہیں کیا۔ ان فرضی ذرات کو WIMPs (Weakly Interacting Massive Particles) کہا جاتا ہے۔ یہ ایسے ذرات ہیں جو کمیت (Mass) تو رکھتے ہیں جس سے کششِ ثقل پیدا ہوتی ہے، لیکن یہ عام مادے سے ٹکراتے نہیں ہیں۔ ہر سیکنڈ میں ڈارک میٹر کے اربوں ان دیکھے ذرات آپ کے جسم، آپ کے گھر اور پوری زمین کے اندر سے بغیر کوئی نشان چھوڑے گزر رہے ہیں۔

زمین کی گہرائیوں میں ڈارک میٹر کی تلاش

اگر ڈارک میٹر نظر نہیں آتا، تو ہم اسے کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟ سائنسدان اس وقت دنیا کے سب سے مشکل اور مہنگے تجربات کے ذریعے ڈارک میٹر کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں- اس کے لئے زمین کے نیچے لیبارٹریز (Underground Detectors)بنائی گئی ہیں- اٹلی اور امریکہ میں زمین کے نیچے ہزاروں فٹ گہری کانوں کے اندر انتہائی حساس ڈیٹیکٹرز بنائے گئے ہیں (جیسے LUX-ZEPLIN تجربہ)۔ زمین کی اتنی گہرائی میں ان تجربات کو اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ کائنات سے آنے والی عام شعاعیں (Cosmic Rays) رک جائیں اور اگر ڈارک میٹر کا کوئی ایک ذرہ بھی ڈیٹیکٹر کے ایٹم سے ٹکرائے تو اس کی ہلکی سی چمک کو نوٹ کیا جا سکے۔

سوئٹزرلینڈ میں قائم دنیا کے سب سے بڑے پارٹیکل ایکسلریٹر میں سائنسدان پروٹونز کو روشنی کی رفتار سے ٹکرا کر اتنی شدید انرجی پیدا کر رہے ہیں کہ شاید اس دھماکے کے نتیجے میں ڈارک میٹر کا کوئی نیا ذرہ تخلیق ہو سکے۔

اگر ڈارک میٹر نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟

ڈارک میٹر محض ایک سائنسی نظریہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری بقا کا ضامن ہے۔ کائنات کے ابتدائی دور یعنی بگ بینگ (Big Bang) کے فوراً بعد، کائنات میں مادّہ بہت تیزی سے پھیل رہا تھا۔ اگر صرف عام مادّہ ہوتا، تو اس کی کششِ ثقل اتنی مضبوط نہیں تھی کہ وہ پھیلتے ہوئے مادّے کو روک کر ستاروں اور کہکشاؤں کی شکل دے سکتی۔

یہ ڈارک میٹر کی ہی ان دیکھی کششِ ثقل تھی جس نے کائنات کے ابتدائی سالوں میں ایک (Cosmic Web) بچھایا۔ اس ڈارک میٹر کے جال نے عام مادّے کو اپنی طرف کھینچا، جس سے کہکشائیں بنیں، کہکشاؤں میں ستارے بنے، ستاروں کے گرد سیارے بنے اور بالاخر زمین پر زندگی کا وجود ممکن ہوا۔

سائنسدانوں کے مطابق "ڈارک میٹر کائنات کا وہ ان دیکھا ڈانچہ یا 'اسکیپ ہولڈ' (Scaffolding) ہے جس کے اوپر پوری روشن کائنات کی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔"

ڈارک میٹر کی کہانی انسان کو اس کی علمی محدودیت کا احساس دلاتی ہے۔ ہم انسان اپنی ٹیکنالوجی، چاند اور مریخ پر پہنچنے اور اے آئی (AI) بنانے پر غرور کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کائنات کے 95 فیصد حصے سے آج بھی مکمل طور پر بے خبر ہیں۔

ڈارک میٹر سائنسدانوں کے لیے ایک کھلے چیلنج کی مانند ہے۔ جب بھی سائنس دان اس ان دیکھے مادّے کے راز کو جاننے میں کامیاب ہوں گے، فزکس کی دنیا میں ایک ایسا نیا انقلاب آئے گا جو کائنات، وقت اور مادّے کے بارے میں ہمارے تمام تصوّرات کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گا۔

رابطہ

ہم سے رابطہ کریں اور اپ ڈیٹس حاصل کریں

ای میل

فون

contact@rungraiz.com

+44 123 12345

© 2026. All rights reserved. Powered by Rungraiz