تیسری جنگِ عظیم کا نیا محاذ
7/28/20261 min read


آج کی دنیا میں جب ہم اپنے اسمارٹ فون پر ایک کلک کرتے ہیں، ویڈیو کال پر بات کرتے ہیں یا بینک اکاؤنٹ سے رقم منتقل کرتے ہیں، تو عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ تمام تر ڈیٹا سگنلز کی صورت میں خلا میں موجود سیٹلائٹس سے ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔ یہ ایک ایسا مغالطہ ہے جو جدید دور کے سب سے بڑے اور حساس ترین انفراسٹرکچر کو ہماری نظروں سے اوجھل رکھتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ دنیا کا 98 فیصد سے زائد انٹرنیٹ اور مواصلاتی ڈیٹا خلا کے بجائے سمندر کی تاریک اور گہری تہہ میں سفر کرتا ہے۔
زمین کے 70 فیصد حصے پر پھیلے ہوئے سمندروں کی تہہ میں اس وقت باریک فائبر آپٹک کیبلز (Submarine Cables) کا ایک ایسا جال بچھا ہوا ہے جسے جدید انسانی تہذیب کی "شہ رگ" کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ لیکن یہی شہ رگ اس وقت دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان جاری پسِ پردہ کشیدگی اور آنے والے دور کی ممکنہ جنگوں کا سب سے بڑا اور حساس ترین ہدف بن چکی ہے۔
انٹرنیٹ کی اس پوشیدہ دنیا کو سمجھنے کے لیے پہلے ان کیبلز کی ساخت اور ان کی وسعت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے سمندروں میں تقریباً 500 سے زائد اہم سب میرین کیبلز موجود ہیں، جن کی مجموعی لمبائی 12 لاکھ کلومیٹر (تقریباً ۹ لاکھ میل) سے زیادہ ہے۔ یہ فاصلہ زمین سے چاند تک تین بار جانے اور واپس آنے کے برابر ہے۔
ظاہری طور پر یہ کیبلز بہت زیادہ موٹی نہیں ہوتیں۔ سمندر کے انتہائی گہرے حصوں میں، جہاں بیرونی خطرات کم ہوتے ہیں، یہ کیبل محض باغ میں پانی دینے والے پائپ جتنی موٹی ہوتی ہے—تقریباً 1.5 سے 2 انچ۔ ان تاروں کے ذریعے روزانہ اربوں ڈالر کی مالیاتی ترسیلات، دنیا بھر کی حکومتوں کے درمیان خفیہ سفارتی پیغامات، ملٹری انٹیلی جنس کا تبادلہ اور عام عوام کا تمام تر انٹرنیٹ ٹریفک منتقل ہوتا ہے۔ اگر یہ کیبلز اچانک کام کرنا بند کر دیں تو سیٹلائٹس دنیا کے صرف 3 فیصد ڈیٹا کا بوجھ بھی نہیں اٹھا سکتیں۔
جب دنیا بلیک آؤٹ کے قریب پہنچی
یہ بات صرف نظریاتی نہیں ہے کہ ان کیبلز کے کٹنے سے کیا تباہی مچ سکتی ہے، بلکہ تاریخ میں ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جنہوں نے دنیا کو لرزا کر رکھ دیا۔ 2006 میں تائیوان کے ساحل کے قریب آنے والے ایک شدید زلزلے نے سمندر کے نیچے لینڈ سلائیڈنگ پیدا کی، جس سے آٹھ زیرِ آب کیبلز کٹ گئیں۔ اس کے نتیجے میں تائیوان، ہانگ کانگ، چین، اور فلپائن میں انٹرنیٹ اور بین الاقوامی بینکاری نظام مکمل طور پر مفلوج ہو گیا۔ مالیاتی اداروں کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور مواصلات کی بحالی میں کئی ہفتے لگے۔2008 میں اسکندریہ (مصر) کے ساحل کے قریب ایک بحری جہاز کے لنگر (Anchor) کی وجہ سے سمندر کے نیچے دو اہم کیبلز کٹ گئیں۔ اس ایک واقعے نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے ایک بڑے حصے میں انٹرنیٹ کی رفتار 70 فیصد تک کم کر دی، جبکہ مصر میں انٹرنیٹ کی فراہمی تقریباً ختم ہو کر رہ گئی۔2022 میں بحر الکاہل میں واقع جزیرہ نما ملک ٹونگا میں جب زیرِ آب آتش فشاں پھٹا، تو اس نے ملک کو دنیا سے جوڑنے والی واحد سب میرین کیبل کو تباہ کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورا ملک ہفتوں کے لیے بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کٹ گیا اور وہاں امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جدید گرے زون وارفیئر
سرد جنگ کے زمانے میں دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں کا خوف تھا، لیکن 21ویں صدی کی 'گرے زون وارفیئر' (Gray Zone Warfare) میں سب سے بڑا ہتھیار بغیر کوئی گولی چلائے کسی ملک کی معیشت اور مواصلات کو مفلوج کرنا ہے۔ عالمی ماہرینِ دفاع اور نیٹو (NATO) کے حکام نے بارہا اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل کے تنازعات میں یہ کیبلز پہلا ہدف ہوں گی۔ حالیہ سالوں میں، شمالی اوقیانوس (North Atlantic)، بحیرہ Baltic، اور بحیرہ عرب میں ایسے واقعات دیکھے گئے ہیں جہاں غیر معمولی بحری جہاز اور جدید آبدوزیں ان کیبلز کے گزرگاہوں کے قریب مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پائی گئیں۔ خفیہ اداروں کی رپورٹوں کے مطابق، چند عالمی طاقتوں نے ایسی خصوصی آبدوزیں اور زیرِ آب ڈرونز (Unmanned Underwater Vehicles) تیار کر لیے ہیں جو سمندر کی ہزاروں فٹ گہرائی میں جا کر نہ صرف ان کیبلز کو کاٹ سکتے ہیں، بلکہ ان میں ایسے 'ٹیپنگ ڈیوائسز' (Tapping Devices) بھی لگا سکتے ہیں جو بغیر کسی کو خبر ہوئے ان تاروں سے گزرنے والے انتہائی خفیہ ڈیٹا کو چوری کر لیں۔
بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق "اگر کسی ملک کو معاشی اور فوجی طور پر 24 گھنٹوں کے اندر پتھر کے دور میں دھکیلنا ہو، تو اس پر بم گرانے کی ضرورت نہیں، بس اس کے ساحل سے گزرنے والی تین یا چار بنیادی کیبلز کو کاٹ دینا ہی کافی ہے۔"
ان کیبلز کا سب سے کمزور پہلو ان کی ملکیت اور تحفظ کا نظام ہے۔ یہ کیبلز کسی ایک ملک یا فوج کی ملکیت نہیں ہوتیں، بلکہ زیادہ تر نجی ٹیک کمپنیوں (جیسے Google, Meta, Microsoft) اور عالمی ٹیلی کام کمپنیوں کے کنسورشیم کی ملکیت ہوتی ہیں۔
خطرناک بات یہ ہے کک ہم جس ڈیجیٹل دنیا پر مکمل انحصار کر رہے ہیں، اس کی بنیادیں شیشے کے انتہائی ناپائیدار دھاگوں پر ٹکی ہوئی ہیں جو تاریک سمندروں کی تہہ میں بن بلائے مہمانوں اور دشمنوں کے رحم و کرم پر ہیں۔آج کی جغرافیائی سیاست (Geopolitics) اب صرف زمین کی سرحدوں یا آسمان کی بلندیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ سمندر کی ان گہرائیوں میں اتر چکی ہے جہاں خاموشی سے مستقبل کی جنگوں کا مقدمہ لکھا جا رہا ہے۔ جو طاقت ان زیرِ آب تاروں پر کنٹرول حاصل کرے گی یا انہیں مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھے گی، وہی ۲۱ویں صدی کی دنیا پر حکمرانی کرے گی۔
