کیا فلمی ستاروں کی مانند کم پڑی رہی ہے؟
8/3/20261 min read


نیٹ فلکس، یوٹیوب اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے کیا بدلا؟
کبھی فلم ریلیز ہونے کے لیے صرف سینما گھر ضروری ہوتے تھے۔پھر ٹیلی ویژن آیا۔اب او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے پوری صنعت کو بدل دیا ہے۔آج ایک ویب سیریز دنیا کے درجنوں ممالک میں ایک ہی وقت میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ایک پاکستانی ڈرامہ یا بھارتی فلم صرف مقامی ناظرین تک محدود نہیں رہتی بلکہ دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچ جاتی ہے۔اس عالمی رسائی نے نئے اداکاروں کے لیے بھی مواقع پیدا کیے ہیں۔
کیا فلمی ستاروں کی جگہ انفلوئنسرز لے رہے ہیں؟
یہ سوال اب صرف بحث نہیں بلکہ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
کئی بڑی کمپنیاں کسی مشہور فلمی اداکار کے بجائے ایسے ڈیجیٹل انفلوئنسر کو منتخب کرتی ہیں جس کے مداح زیادہ متحرک ہوں۔وجہ سادہ ہے۔برانڈ کو صرف شہرت نہیں بلکہ فروخت چاہیے۔
اگر کسی انفلوئنسر کی ایک ویڈیو لاکھوں لوگوں کو خریداری پر آمادہ کر سکتی ہے تو مارکیٹنگ کی دنیا میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔اسی لیے اب بہت سے نوجوان فلموں کے بجائے سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
شہرت کی قیمت
شوبز کی اس نئی دنیا نے فنکاروں پر ایک نیا دباؤ بھی پیدا کیا ہے۔پہلے انہیں صرف اچھی اداکاری کرنی ہوتی تھی۔
اب انہیں ہر وقت آن لائن بھی متحرک رہنا پڑتا ہے۔اگر وہ کچھ دن سوشل میڈیا سے غائب رہیں تو مداح سوال کرنے لگتے ہیں۔
اگر کوئی غلط بیان دے دیں تو چند منٹوں میں شدید تنقید شروع ہو سکتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ جدید شہرت پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور بھی ہے اور زیادہ نازک بھی۔
کیا فن اب کاروبار کے نیچے دب رہا ہے؟
بہت سے فلمی ناقدین کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا نے فن کے معیار کو متاثر کیا ہے۔ان کے مطابق اب بعض اوقات اداکاری سے زیادہ اہم یہ ہو گیا ہے کہ کسی اداکار کے کتنے فالوورز ہیں۔
پروڈیوسرز بھی ایسے چہروں کو ترجیح دیتے ہیں جو فلم کے ساتھ ساتھ ٹکٹ اور اشتہارات بھی فروخت کر سکیں۔اس رجحان سے نئے اور باصلاحیت فنکاروں کے لیے مقابلہ مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
لیکن دوسری طرف کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے ایسے فنکاروں کو بھی موقع دیا ہے جنہیں روایتی فلمی صنعت میں کبھی جگہ نہیں ملتی تھی۔
پاکستانی شوبز کے لیے کیا سبق؟
پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری بھی اس تبدیلی سے گزر رہی ہے۔اب صرف ٹیلی ویژن پر مقبول ہونا کافی نہیں۔
ایک اداکار کی سوشل میڈیا موجودگی، بین الاقوامی رسائی اور ڈیجیٹل مقبولیت بھی اس کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ کرتی ہے۔یوٹیوب، شارٹ ویڈیوز اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے پاکستانی فنکاروں کو عالمی سطح پر پہنچنے کا موقع دیا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ معیار، اصل تخلیق اور پیشہ ورانہ مہارت کو برقرار رکھنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
مستقبل کا فلمی ستارہ کیسا ہوگا؟
ممکن ہے آنے والے برسوں میں سپر اسٹار کی تعریف مکمل طور پر بدل جائے۔وہ صرف اداکار نہیں ہوگا بلکہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت،، ایک ڈیجیٹل کریئیٹر،ایک برانڈ، ایک سرمایہ کار، اور کروڑوں لوگوں پر اثر انداز ہونے والا میڈیا پلیٹ فارم بھی ہوگا۔
یعنی مستقبل میں شہرت صرف اسکرین پر نہیں بلکہ ہر اس پلیٹ فارم پر موجود ہوگی جہاں عوام کی توجہ موجود ہے۔
اس لئے یہ کہنا درست ہے کہ شوبز انڈسٹری ایک خاموش انقلاب سے گزر رہی ہے۔فلمیں اب بھی بنتی ہیں، ڈرامے اب بھی دیکھے جاتے ہیں، لیکن اصل طاقت صرف سنیما گھروں میں نہیں رہی۔اب طاقت اس اسکرین میں ہے جو ہر انسان کی جیب میں موجود ہے۔
سوشل میڈیا نے فلمی ستاروں کو صرف نئی شہرت نہیں دی بلکہ ایک نئی معیشت بھی پیدا کر دی ہے، جہاں ایک کامیاب پوسٹ، ایک وائرل ویڈیو یا ایک برانڈ معاہدہ بعض اوقات پوری فلم سے زیادہ منافع بخش ثابت ہوتا ہے۔
لیکن اس تبدیلی کے درمیان ایک حقیقت اب بھی قائم ہے۔
عوام وقتی شہرت خرید سکتے ہیں، مگر حقیقی فن نہیں۔
ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور مارکیٹنگ کسی فنکار کو مشہور ضرور بنا سکتے ہیں، لیکن اسے تاریخ میں زندہ رکھنے کا فیصلہ آج بھی اس کے فن، کردار اور تخلیقی صلاحیت ہی کرتی ہے۔
اسی لیے شوبز کا مستقبل شاید ڈیجیٹل ہو، مگر اس کی روح آج بھی وہی ہے جو ایک اچھی کہانی، ایک یادگار کردار اور ایک سچے فنکار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
