برطانیہ میں پہلی بار “حلال رہائش گاہ” قائم، سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا!

7/29/20261 min read

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے رہورٹ کے مطابق برطانیہ کے شہر ڈنڈی میں پہلی مرتبہ ایک ایسی نجی طلبہ رہائش گاہ قائم کی گئی ہے جہاں صرف حلال خوراک کی اجازت ہوگی، جبکہ شراب اور خنزیر کے گوشت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس اقدام نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے اور بعض سیاست دانوں نے اس کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

“روز ہاؤس” (Rose House) نامی یہ رہائش گاہ 20 کمروں پر مشتمل ہے اور صرف مرد طلبہ کے لیے مختص کی گئی ہے۔ یہ عمارت 18ویں صدی کی تاریخی عمارت ہے جسے گزشتہ سال ILM Student Halls نے خریدا تھا۔ یہاں اس موسمِ خزاں میں ڈنڈی کی تین جامعات کے طلبہ کی نئی کھیپ رہائش اختیار کرے گی۔

اصلاح پسند جماعت کی مخالفت

اس منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے اسکاٹ لینڈ کے شمال مشرق سے تعلق رکھنے والے ریفارم پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ مارک سمپسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر لکھا کہ وہ اس منصوبے کی سخت مخالفت کرتے ہیں اور اسے بند کرانے کی کوشش کریں گے۔

دوسری جانب، ریفارم یو کے کے ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ موقف پوری جماعت کی پالیسی بھی ہے یا نہیں۔

صرف مسلمانوں کے لیے نہیں

اگرچہ اس رہائش گاہ میں مشترکہ باورچی خانوں میں صرف حلال کھانا لانے کی اجازت ہوگی اور شراب و خنزیر کے گوشت پر مکمل پابندی ہوگی، تاہم انتظامیہ کے مطابق یہاں غیر مسلم طلبہ بھی رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔

رہائشیوں کو نماز کے اوقات، عبادت گاہوں کے احترام اور شراب سے پاک ماحول کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ رات بھر مہمان ٹھہرانے کے لیے پیشگی اجازت لینا اور ضرورت پڑنے پر کمیونٹی اجلاسوں میں شرکت بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

فلسطین سے اظہارِ یکجہتی

عمارت کی اندرونی تصاویر میں ایک تفریحی کمرہ دکھایا گیا ہے جہاں ٹیبل فٹ بال، آرکیڈ گیمز، بڑی ٹی وی اسکرین اور مساج چیئرز موجود ہیں۔ ایک الگ کمرے میں فلسطین کا بڑا پرچم بھی آویزاں ہے جبکہ اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات پر مبنی پوسٹر بھی لگائے گئے ہیں۔

کرایہ اور سہولیات

نجی ملکیت میں قائم اس رہائش گاہ کا ڈنڈی یونیورسٹی سے کوئی انتظامی تعلق نہیں۔ یہاں ایک این سویٹ (ذاتی غسل خانے والے) کمرے کا کرایہ 165 پاؤنڈ فی ہفتہ سے شروع ہوتا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق رہائش گاہ میں 20 نجی کمرے، تین مکمل طور پر حلال مشترکہ کچن، سماجی سرگرمیوں کے لیے لاؤنج، آن سائٹ جم، تیز رفتار وائی فائی اور تمام یوٹیلٹی بلز کرائے میں شامل ہیں۔

صرف مردوں کے لیے کیوں؟

عمارت کے مالک کاشف رشید نے بتایا کہ آنے والے تعلیمی سال کے لیے رہائش اختیار کرنے والوں کی اکثریت غیر مسلم طلبہ پر مشتمل ہے، جن میں کئی مسیحی طلبہ بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق عمارت کا ڈھانچہ ایسا نہیں کہ مردوں اور خواتین کے لیے الگ حصے بنائے جا سکیں، اسی لیے اسے صرف مرد طلبہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، “ابتدائی درخواستیں بھی مرد طلبہ کی جانب سے موصول ہوئی تھیں۔ میں خود بیٹیوں کا باپ ہوں، اگر پہلے خواتین نے درخواست دی ہوتی تو یہ رہائش گاہ خواتین کے لیے مخصوص کی جا سکتی تھی۔”

انتظامیہ کا مؤقف

ILM Student Halls کے ترجمان نے کہا کہ یہ رہائش گاہ کسی ایک مذہب کے افراد کے لیے مخصوص نہیں بلکہ ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے کھلی ہے۔

ترجمان کے مطابق موجودہ رہائشیوں کی اکثریت مسیحی طلبہ پر مشتمل ہے، جبکہ دیگر مذاہب اور غیر مذہبی طلبہ بھی یہاں رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے طلبہ پرسکون، شراب سے پاک اور باہمی احترام پر مبنی ماحول کو اپنی تعلیمی کارکردگی اور ذہنی سکون کے لیے ترجیح دیتے ہیں، اور یہی اس رہائش گاہ کا بنیادی مقصد ہے۔

انتظامیہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں صرف مردوں یا صرف خواتین کے لیے رہائش گاہیں پہلے سے موجود ہیں، اس لیے اس طرز کی رہائش کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

دھمکیوں پر تشویش

ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلائے جانے کے بعد رہائش گاہ کو نذرِ آتش کرنے سمیت متعدد دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، جس سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے جو صرف پرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

رابطہ

ہم سے رابطہ کریں اور اپ ڈیٹس حاصل کریں

ای میل

فون

contact@rungraiz.com

+44 123 12345

© 2026. All rights reserved. Powered by Rungraiz